او پی ایف بورڈ کی تشکیل نو اور متوقع چیلنجز – بیرسٹر امجد ملک

4 اپریل 2016 ء کو شروع ہونے والا تاریخی سفر بالآخر 12 جون 2018 ء کو او پی ایف کے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو سے ختم ہوا۔ شکر الحمدوللہ ہم سرخرو ہو کر گھر آئے کیونکہ یہ سب کیلئے حیران کن تھا کہ پالیسی ساز ادارے کے سربراہ کے طور پر اس ملین ڈالر ادارے کی سربراہی ایک تارک وطن کو عطا کر دی گئی ہے بابوز اسے کب تک برداشت کرینگے اور ان کا صبر 10 ماہ قبل از وقت ہی جواب دے گیا اور کیبنٹ کی آخری میٹنگ میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے احکامات پر تشکیل نو کی منظور لے کر خود ہی آرڈر لکھ کر خود ہی چیئرمین بن کر خود ہی ہنگامی میٹنگ بھی کھڑکا لی اور اس بات پر سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز ڈاکٹر ہاشم پاپلزئی کے حوصلے اور بہادری کی داد دینی چاہئے جن کے غیر قانونی احکامات پر پہلے ہی دو وزارت قانون کے مشورے طلب کئے گئے تھے ۔ نئے تشکیل کردہ بورڈ میں یو کے یورپ اور امریکہ اور دبئی کی نمائندگی بالکل نکال دی گئی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے پرانے وقتوں میں یو کے سے 4 ممبران بھی بورڈ پر نمائندگی کرتے پائے گئے ۔ 2012 ء کو غالباً میاں محمد شہباز شریف نے مجھے اور سابق گورنر محمد سرور کو ایک رپورٹ تیار کرنے کیلئے کہا اور اسکے مندرجات کی روشنی میں اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب کا وجود عمل میں لایا گیا ۔ 2016 ء میں متحرک تارکین وطن کی او پی ایف کے بورڈ پر نمائندگی ایک انقلابی عمل تھا اور اس قدم سے تارکین وطن کو حق نمائندگی کے دیرینہ مطالبے کی طرف پیش قدمی متوقع تھی۔ 2 سال ہم نے خوب محنت و دلجمعی اور خلوص نیت سے کام کیا اور کوشش کی کہ زبیر عمر، صاحبزادہ سعید احمد ، جہانگیر منہاس ، نثار صدیقی، خالد شاہین بٹ اور نور الحسن تنویر کے ساتھ اور سرکاری افسران کے ساتھ مل کر ملک کا امیج تارکین وطن کی نظروں میں بہتر کیا جائے ۔B690BD08-7530-4863-9F4F-04DDCE2D3966 سہولیات کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو ۔ سرمایہ کاری کے مواقع یکساں ہوں اور کرپشن کا خاتمہ ہو سکے ۔ ہم نے سالوں میں سالانہ رپورٹ کے اجراء ، ویب سائٹ اور شکایت سیل کے قیام اور 8 ایئر پورٹ پر خوش آمدیدی ڈیسک اور بیرون ملک کھلی کچہری اور 24 گھنٹے کے ہیلپ لائن سے تارکین وطن سے رابطوں کو بڑھایا ۔ کمی بیشی ہو سکتی ہے لیکن تمام ممبران نے دلجمعی کے ساتھ بورڈ کی کرپشن پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی کو مانا اور سراہا اور اس پر عمل کرنے کیلئے سر تو ڑ کوشش کی ۔ 200 کے قریب افراد پر مشتمل ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی اور ہر تین ماہ بعد سکائپ کے ذریعے لوگوں سے انکی آراء لی گئیں۔ وزیر محترم پیر صدر الدین راشدی اور عبد الرحمان خان کانجو اور اس دوران 3 متعلقہ سیکرٹریوں خاص طور پر حضر حیات خان اور مرزا عامر سہیل نے 23 جگہ پر کھلی کچہریاں لگانے میں مدد کی اور برطانیہ اور سعودی عرب میں تو کھلی کچہریوں میں وزیرصاحب نے خود سوالوں اور جوابوں میں حصہ لیا یہ تاریخی واقعات اور لمحات تھے جب جواب طلبی احتساب اور آگہی لوگوں کی دہلیز تک پہنچ رہی تھی میں نے چیئرمین آفس کے قفل تڑوا کر اسکے دروازے عام آدمی کیلئے کھول دیئے ۔ وہ وہ لوگ اور او پی ایف تشریف لائے جنہوں نے صرف انکا کبھی نام سنا تھا ۔ 24 گھنٹے میں پیغامات کا جواب دیا جاتا ۔ لوگوں سے محبت سے بات کا سلیقہ اور حق دار کو اسکا جائزہ حق رشوت سفارش اور کسی جاہ و جلال کے بغیر لینے اور دینے کا طریقہ پروان چڑھایا ۔ میں نے خود یورپ میں فرانس بیلجیم ، سپین، ہالینڈ ، اٹلی،یونان، کویت، بحرین، عمان، دبئی ، برطانیہ میں کھلی کچہریوں میں لوگوں کے مسائل سنے انکے اوپر جامعہ رپورٹ سفیر پاکستان ڈاکٹر عرفان شامی کے ساتھ مل کر وزیراعظم اور کئی موقعوں پر بورڈ میں منظوری کیلئے پیش کیں۔ کچھ گزارشات پر عمل ہو چکا ہے اور کچھ پر باقی ہے لیکن لوگوں کی کہی ہوئی ہر بات پر کوشش کی کہ اسے اہل اقتدار کے علم میں لایا جائے ۔ ان دوروں کے انعقاد اور اوپی ایف میں نیو کلیائی تبدیلیوں میں سپورٹ کیلئے میرے ساتھ تمام چیف ایگزیکٹو نے مکمل تعاون کیا لیکن ڈاکٹر حبیب الرحمان گیلانی نے ہماری سپیڈاور ہمارے بیانیے کو کسی پس و پیش کے ساتھ مقبول کیا اور تمام قانونی معاملات میں بغیر کسی حیل و حجت کے کام جاری رکھا۔ ای لرننگ سکولنگ او پی ایف سمارٹ کارڈ ویب سائٹ شکائتی پورٹل اور ہائوسنگ سکیموں میں ترقیاتی کام، ڈیسکوں کا قیام اور او پی ایف ایمبولینس سروس انکے مکمل تعاون کے بغیر ممکن نہ تھی ۔ او پی ایف ایمبولینس سروس کے ذریعے میت کو ایئر پورٹ سے گھر پہنچانے کی ذمہ داری جتنی جرأت اور حوصلے سے او پی ایف نے سرانجام دی اسکی مثال پہلے نہیں ملتی۔ ہمارے بورڈ ممبر اور ہائوسنگ کے انچارج جہانگیر منہاس رائوڈی راٹھور کی طرح کام کرنے کے عادی ہیں ۔ انہوں نے دن رات ایک کر کے زون 5 کالونی میں لوگوں کو مالکانہ حقوق اور قبضہ دلانے کیلئے دن رات ایک کر دیا۔ انہوں نے بورڈ کو چین سے بھی نہ بیٹھنے دیا اور اپنا کام بھی جاری رکھا ۔ حق نواز صاحب نے فنانس کے معاملات میں اور صاحبزادہ سعید احمد نے آڈٹ کے معاملات میں بے حد تعاون کیا۔ نور الحسن تنویر نے تمام وفود کو دبئی میں خود خوش آمدید کہا اور انکی آئو بھگت ذاتی خرچ سی کی۔ D3734A05-2B56-4853-826B-E1FB3983D72E
خالد شاہین بٹ صاحب نے امریکی پاکستانیوں اور او پی سی کے تجربے کو ہمارے بورڈ پر خواب اچھے طریقے سے شیئر کیا اور جہاںجہاں ضروری ہوا فائر بریگیڈ کا کام کیا اور معاملات کو ہاتھ سے نکلنے سے بچایا ۔مجھے انہوں نے چھوٹے بھائی کی طرح پیار دیا جس کیلئے میں انتہائی مشکور ہوں۔ شاہ جمال، ڈاکٹر شامی، حبیب الرحمن خان، زبیر عمر، اکبر شریف زادہ، ڈاکٹر پاپلزئی، اسد حیال الدین غرض تمام سرکاری افسران نے اپنے اپنے وقت میں ہمارے ساتھ چلتے ہوئے اس تجربے کو ہر ممکن کامیاب کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ موجودہ بورڈ 26 ماہ بعد بھی کسی مالیاتی سکینڈل سے محفوظ رہا۔ چیئرمین آفس نے رشوت، سفارش اور مالی بدعنوانی پر زیرو ٹالیرنس کی پالیسی برقرار رکھی۔ ٹرانسفر، پوسٹنگ، بھرتیوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھا اور آخری وقت تک اس موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا۔ نیب سے 96 لاکھ روپے دیکر ایک افسر کو جب بحال کرنے کیلئے 8 مارچ 2018ء کو جب بورڈ پر دبائو بڑھانے کی کوشش کی تو بورڈ نے یک زبان ہو کر منسٹری کو نہ صرف ”نو” کہا بلکہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار کے تعین کیلئے لا منسٹری کو بھیجا گیا۔ یہی معاملہ 18 اپریل 2018ء کو جب عارضی ایم ڈی کی تعیناتی پر منسٹری نے من مانی کرنے کی کوشش کی اور بورڈ کی تجویز کو ٹھوکر مار کر پائوں تلے رونڈا تو تب بھی ان کو قانونی دائرہ کار میں رکھنے اور اصلاح کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت قانون سے مشاورت کی صلاح دی ۔ ان تاریخی واقعات میں سینکڑوں لوگوں نے میری مدد کی اور میں ہر ایک شخص کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ خاص طور پر نور الحسن تنویر، آفتاب شریف، عنصر چودھری ، ڈاکٹر ظہور احمد، عامر آفتاب قریشی، شفیق اکبر، یاسر باجوہ، پرویز لوسر، پروفیسر تسنیم امجد، حفیظ خان اور ساجد چودھری کے علاوہ ہر وہ شخص جس نے ہماری اس کاز میں مدد کی میں تمام میڈیا کے دوستوں اکرم ملک، عامر بشیر، غلام حسین اعوان، محمد رمضان، وجاہت علی خان، شفقت ستی، امتیاز احمد ، ظفر ملک اور مانچسٹر کا لوکل میڈیا جو ہر قدم پر او پی ایف کے اقدامات کو لوگوں کے سامنے لانے میں پیش پیش رہا خاص طور پر میں راچڈیل کے میڈیا کے گروپ کے تمام افراد کا مشکور ہوں جنہوں نے لوکل ہونے کی وجہ سے بھرپور مدد کی۔نعیم الرحمن مرزا کا شکریہ میں اس لئے خصوصی طور پر کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے میرے ہر دورے کو بھرپور اور نمایاں کوریج دی اورمجھے قائد اعظم کا پیروکار جانتے ہوئے ہر قدم پر مجھے حوصلہ اور دلاسہ دیا اور آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ BCBB8AEF-3116-4A23-BD6C-0A39A8185600
میری ٹیم رانا عقیل اور اس سے پہلے پی آر او فضل الرحمن ، عظمی حیات کمپنی سیکرٹری، رفیق غوری، شاہد علی، شاہد، اقبال ، ارسلان، امجد اقبال فوٹو گرافر اور ون اینڈ اونلی میرا ڈرائیور آفتاب خورشید جنہوں نے میرے مصروف دنوں کو صبر سے برداشت کیا میں شرمندہ ہوں کہ آفتاب کے والد سے وعدے کے باوجود ایم ڈی صاحب کے ذریعے اس کی نوکری پکی نہ کروا سکا لیکن یہ بات برحق ہے کہ میں اپنی بھی تو نوکری پکی نہ کروا سکا تو امید ہے کہ وہ اس بات کو درگزر کر دیں گے۔
سفیر محترم منظور الحق، تمام کمیونٹی ویلفیئر اتاشی، سفیر محترم ابن عباس، سفیر محترم علی جاوید، سفیر محترم خالد عثمان قیصر، سپین میں سفیر رفعت مہدی صاحب، بلجیم اور ہالینڈ میں پاکستان کی سفیر ، فرانس میں سفیر محترم جنہوں نے تمام کھلی کچہریوں کو کامیابی سے مکمل کرنے میں مدد فراہم کی۔ B08B877F-9E4A-40DD-9C08-33C897E8E689
چیلنجز بہر صورت بے بہا ہیں اور سب سے پہلے تارکین وطن کے دیئے گئے پیسوں میں شفافیت لانے کیلئے آڈٹ کی اشد ضرورت ہے۔ 75 فیصد سے زائد انتظامی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے تو پیچھے کم ہی بچتا ہے۔ تنخواہوں کا بل ، ہائوس الائونس ، میڈیکل بل اورٹ ی اے ڈی اے کے بعد پیسہ بچتا بھی کہاں ہے کہ اسے تقسیم کیا جائے۔ ہم نے 800 ملین روپے ملک سے باہر فوت ہونیوالوں میں تقسیم کئے جو ایک ریکارڈ ہے اس میں شفافیت لانے کی ضرورت ہے کیونکہ دن بدن ملک سے واپس لوٹ آنیوالے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ایک بین الاقوامی کنونشن کا انعقاد ضروری ہے تاکہ جو محنت کی ہے اسے کسی جگہ پر داخل دفتر کیاجائے اور وزیراعظم سے مستقبل کیلئے ہدایات اور احکامات لئے جاسکیں۔
سستا گھر سکیم کے ذریعے بے گھر تارکین وطن کیلئے 5 مرلہ سکیم بہت ضروری ہے تاکہ لوگ گھر پانے کا اپنا خواب پورا کرسکیں۔ بیرون ملک سکول اور یونیورسٹی کا قیام سعودی عرب اور بحرین ، کویت ،عمان اور جی سی سی ملکوں میں ضروری ہے تاکہ مقامی قوانین سے ہم آہنگ ہو کر مدد کی جاسکے۔ C0192D4C-501D-4132-A25B-30DCFBE6F964
ایسے سفارتکار ملک سے باہر سی ڈبلیو اے کے طور پر بھیجے جائیں جو زبان اور مقامی قانون سے واقفیت رکھتے ہوں ۔ او پی ایف کلب زون 5 میں ضرور بننا چاہئے تاکہ وہ لوگ جو ملک میں میں آنا چاہتے ہیں اور سستی رہائش رکھنا چاہتے ہیں وہ ممبر شپ کی بنیاد پر وہ تمام سہولتیں حاصل کرسکیں جو کسی بھی کلب کے ممبران کو حاصل ہیں۔ اپنے بچوں کی شادیاں کرسکیں ۔ سستے نرخوں پر کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کرسکیں اورمذہبی محافل کرسکیں اور اس میں او پی ایف اپنے ممبران کی مدد کرے۔
آخر میں ہزار باتیں ہیں جو لکھی جاسکتی ہیں لیکن میں جنرل پرویز مشرف کی طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان کا اللہ ہی حافظ بلکہ قائد اعظم کا پیروکار ہوتے ہوئے میں یہی کہوں گاکہ ہم نے یہاں تک او پی ایف کو لایا ہے آگے ایک اچھے حالات میں نئے بورڈ کو اسے سونپ کے جارہے ہیں یہ عملدرآمد کا سال تھا اور عملدرآمد ہوتے ہوئے نظر آنا چاہئے۔ اہداف طے ہیں صرف سرکاری ملازمین کو نظریں اپنی جیب اور پیٹ سے نکال کر پیسے دینے والے افراد کی ضرورت پر بھی ڈالنی چاہئے۔ ہم نے آٹھ ارب روپے ایک اکائونٹ میں سیونگ میں رکھے تھے اور وہ 8 ارب اس طرح واپس کر کے جارہے ہیں اور یہی تلقین ہے کہ اوورسیز والے پوچھتے نہیں تو اسے باپ کا مال سمجھ کے مت کھایئے۔ 8B5F20F4-15A2-4457-A4C4-A4640816624F
تارکین وطن سے صرف اتنی التجا ہے کہ یہ کام کافی نہ تھا ، کافی ہونا بھی نہیں چاہئے۔ مجھ سے لیڈر شپ کو اور 8 ملین کو اور زیادہ توقعات ہوں گی میری کوتاہیوں کو درگزر کرتے ہوئے آنیوالے دنوں میں 8 ملین تارکین وطن کے پاکستان کیساتھ اپنے معاملات کو بہتر کرنے میں مدد کریں۔ ہم یہاں تک لائے ہیں انشاء اللہ او پی ایف کے چیئرمین کا دفتر تارکین وطن زیادہ دیر تک بند نہیں ہونے دیں گے اور یہ پھر عام آدمی کیلئے اسی طرح کھلے گا جس طرح پہلے تھا۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

Facebook Comments