مرکزی جمیعت اہل حدیث سعودی عرب کی جانب سے معروف عالم دین علامہ احسان الہی ظہیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئےسیمینار کا انعقاد

الریاض ۔ مرکزی اہل حدیث سعودی عرب کی جانب سے معروف عالم دین علامہ احسان الہی ظہیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئےسیمینار منعقد کیا گیا جس میں مذہبی افراد کے علاوہ دیگر سیاسی وادبی شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا تھا اس موقعہ پر مکتبہ دارالسلام کے مدیر علامہ عبدالمالک مجاہد نے کہا کہ علامہ احسان الہی ظہیر کا شمار پاکستان کے نامور عالم دین شخصیات میں ہوتا ہے، انہوں نے بہت کم عرصے میں اپنے علم و دانش کے ذریعے اپنا آپ منوایا اور نامور خطیب ہونے کا اعزاز حاصل کیا، مدینہ اسلامک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے دین اسلام کی اشاعت اور مختلف مسالک کے درمیان اختلافات کو تاریخی طور پر اور قرآن و سنت کے مطابق حل کرنے کی بھرپور کوشش کی، ان کی تقاریر حقائق پر مبنی اور بہتر دلائل کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتیں، انہوں نے مذہبی اور سیاسی میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور لوگوں کی اصلاح و احوال کا کام بھی با خوبی نبھایا، اللہ تعالی کی ذات اقدس ان ہر بہت مہربان رہی اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں جنت البقیع میں مدفن ہونا بھی نصیب ہوا، علامہ عبدالمالک مجاہد نے علامہ احسان الہی ظہیر کی شہادت کے متعلقہ بتایا کہ 1987 میں پاکستان کی تاریخ کا وہ پہلا بم دھماکہ تھا جس میں علامہ ظہیر زخمی ہوئے، سعودی گورنمنٹ کو اطلاع ہوتو انہیں فوری زخمی حالت میں سعودی عرب لایا گیا مگر وہ جانبر نا ہوسکے اور علم کا ایک باب ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہو گیا، ہم آج بھی ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں کہ حق بات کرنے سے کبھی نا ڈرو کبھی بھی بھی توحید کا دامن نا چھوڑو بلکے اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہو اپنی زندگی دین اسلام اور اللہ کی خوشنودی کے لئے وقف کر دو، یہی وجہ ہے کہ آج بھی اہلحدیث کے اندر علامہ احسان الہی ظہیر کی یاد تازہ ہے کہ انہوں نے ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا،مجلس پاکستان کے جنرل سیکرٹری حافظ عبدالوحید کا کہنا تھا کہ علامہ احسان الہی ظہیر کی شخصیت پر گفتگو کرنا سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ہے کیونکہ انہوں نے اپنی علمی بصیرت میں وہ شاہکار تخلیق کیے ہیں جن سے ابھی تلک فیض یاب ہوا جاتا ہے جس طرح انہوں نے قادیانیت کہ روک تھام پر لوگوں کو آگاہ کیا اور اس فتنے سے بچنے کے لئے درس وتدریس کے ذریعے آگاہ کیا وہ یقینی طور پر لائق تحسین ہے،سمینار سے علامہ احسان الہی ظہیر کے بیٹوں علامہ ابتسام الہی ظہیر اور ھشام الہی ظہیر نے بھی ویڈیو پیغامات کے ذریعے کیا کہ وہ علامہ عبدالاملک مجاہد کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے یہ سمینار منعقد کیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ علامہ احسان الہی ظہیر نے جو اللہ کی توحید کا علم ہمیں سونپا ہے اس کو ہم سب ملکر لیکر چلیں اور اللہ کی توحید کا درس عام کریں، کیونکہ اللہ ہی اس کائنات کا مالک بھی ہے اور رازق بھی ہے، سمینار میں حافظ محمد عمران نے علامہ ظہیر کی تصانیف کے متعلق آگاہی دی اس کے علاوہ ابوالرشدان، قاضی اسحاق میمن، ظہور احمد خان، زین عرفان، مولانا عمر کیلانی، مولانا ہمایوں محسود، ڈاکٹر ریاض چوہدری، راجہ طفیل، سردار شعیب احمد نے بھی خطاب کیا نظامت کے فرائض فیصل علوی نے ادا کیے۔

Facebook Comments