تحریک لبیک پاکستان ریاض کے زیر اہتمام تقریب یوم یکجہتی کشمیر

الریاض۔مقبوضہ جموں وکشمیرکے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لئے تحریک لبیک پاکستان ریاض نے ایک تقریب کا انعقاد کیا ۔جس میں سیاسی و سماجی ، ادبی و صحافتی اور کاروباری حلقوں نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کی صدارت تحریک لبیک پاکستان کے صدر مولٰنا محمد اویس قادری جبکہ نظامت سیکریٹری جنرل قاری محمد جہانگیر قادری انجام دیں ۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے محمد جہانگیر قادری کے تقریب کے اعراض و مقاصدپرروشنی ڈالی اور کہا کہ عرصہ سے ہم اظہار یک جہتی تومنارہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس طرح یہ دن مناتے منارہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس طرح یہ دن مناتے رہیں گے یا کشمیر کی آزادی کے لئے مل کر کوئی عملی قدم بھی اٹھائیں گے۔ اس موقعہ پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میڈیا فورم کے صدر الیاس رحیم نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی افواج کی ظلم وبربریت کی نئی لہر سے بھارتی عزائم کھل کر سامنے آئی ہے اورکشمیریوں کے قتل عام سے بھارت کا مکروہ چہرہ مزید کھل گیاہے ۔ انہوںنے کہا کشمیر ہمارا وجود ہے اور ستر سال گزرنے کے باوجود آج بھی ہر کشمیری کی زبان پر الحاق پاکستان کی صدا ہے۔معروف صحافی و محقق پروفیسر جاوید اقبال نے اپنے خطاب میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندونستان، پاکستان یا انگیریز وں نے نہیں بلکہ احمدیوں نے بنوایا تھا اور آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا ک14اکتوبر 1947کوڈان ہوٹل راولپنڈی میں احمدیوں نے کن مقاصد اور کس کے اشارے پرتیرہ رکنی کابینہ بناکر غلام نبی گل کار کو وزیر اعظم بنایا ۔انہوں نے کہا کہ آج تک احمدیوں کی مذکورہ اجلاس ، کابینہ کی تشکیل اور الحاق کشمیر کا ہند سے دستاویزات کی تفصیل معمہ بنی ہوئی ہے اور یہ نکات آجتک کسی نے کسی بھی فورم پر نہیں اٹھائے ۔جمعیت اہل حدیث کے فیصل علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک پاکستان اندرونی طورپر مستحکم و مضبوط نہیں ہوگا مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دینی و مذہبی قوتوںکو اپنے فروعی اختلافات بھلاکرفرقہ واریت کا خاتمہ کرتے ہوئے پاکستان کو ایمانی قوت سے مضبوط کرنا ہوگا تک جاکر کشمیر کی آزادی ممکن ہے ۔جماعت اسلامی کے حافظ عبدالوحید نے واضح کیا کہ مغرب و مشرق اور باطل قوتوں کی طرف دیکھنے او رمذکرات کے بجائے نبی ö کے امتی کے طور پر کشمیر کو بزور شمشیر آزاد کرنا ہوگا اور اس مقصد کے حصول کے لئے بہترین عمل جہاد ہی ہے ۔پروفیسر محمد افتخار شاہین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کی آزادی کے لئے ہمیں جذبہ یک جہتی و ایمانی سے لڑنا ہوگا اور جب تک آزاد کشمیر کے عوام عملی طورپر آزادی کی جنگ میں شامل نہیں ہوتے کشمیر کاز کا بام عروج تک پہنچنا ممکن نہیں ۔انجینئر صداقت علی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے گلگت بلتستان میں احساس محرومی کے خاتمے اور ملکی سطح کے حقوق کا مطالبہ کیا جبکہ سعودی شہری صالح سعد الزہرانی نے کشمیر میں جاری ظلم وستم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔تقریب کے صدر مولٰنا محمد اویس قادری نے اپنے خطاب میں مقررین و حاضرین کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ آج بھی کشمیر کے عوام صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم اور نورالدین زنگی کے منتظر ہیں ۔ انہوں نے قندوز میں نہتے حفاظ اکرام کی شہادت پر امریکہ اور باطل قوتوں کوللکارتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں ہم اس ظلم و بربریت کا بدلہ لےکر واضح کرلیں گے کہ مسلمان وہ قوم نہیں جس سے پاؤں تلے روندا جاسکے انہوں نے کہا کہ کشمیر کیکی مٹی ہمیں عزیز ہے اور ان کا زرہ زرہ شہدائ کی خون سے روشن ہے او روہ دن دور نہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان ۔اس موقعہ پر ملک جہانگیر ، محمد اسلم راہی ù سردار عبدالرزاق خان او ردیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ ممتاز صحافی اور پاک میڈیا فورم کے ایگزیکٹیوممبر ذاکائ اللہ محسن کو لبیک پاکستان کی طرف سے اعلیٰ صحافتی کردار پر اعزازی شیلڈ سے نوازا ۔

Facebook Comments